Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Anbiya Ayah 5

21:5
بل قالوا اضغاث احلام بل افتراه بل هو شاعر فلياتنا باية كما ارسل الاولون ٥
بَلْ قَالُوٓا۟ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍۭ بَلِ ٱفْتَرَىٰهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۭ فَلْيَأْتِنَا بِـَٔايَةٍۢ كَمَآ أُرْسِلَ ٱلْأَوَّلُونَ ٥
بَلۡﱳ
قَالُوٓاْﱴ
أَضۡغَٰثُﱵ
أَحۡلَٰمِۭﱶ
بَلِﱷ
ٱفۡتَرَىٰهُﱸ
بَلۡﱹ
هُوَﱺ
شَاعِرٞﱻ
فَلۡيَأۡتِنَاﱼ
بِـَٔايَةٖﱽ
كَمَآﱾ
أُرۡسِلَﱿ
ٱلۡأَوَّلُونَﲀ
٥ﲁ
(Họ bối rối về những gì Thiên Sứ Muhammad mang đến, có lúc) họ bảo: “Toàn là những giấc mộng lộn xộn” (Có lúc họ bảo): “Không, hắn chỉ bịa đặt ra mà thôi” (Và có lúc họ lại bảo): “Không, hắn là một nhà thơ; chúng ta hãy bảo hắn mang đến cho chúng ta một phép lạ giống như những cái đã được ban cấp cho các vị Thiên Sứ trước kia (nếu như hắn nói thật).”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:5 đến 21:6

حق کا داعی ہمیشہ حق کی دعوت کو دلیل کے زور پر پیش کرتا ہے۔ مخالفین جب دیکھتے ہیں کہ وہ دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تو وہ طرح طرح کی باتیں نکال کر عوام کو اس سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ شاعرانہ کلام ہے۔ یہ ادبی ساحری ہے۔یہ ایک دیوانے کے تخیّلات ہیں۔ یہ اپنے جی سے بنائی ہوئی باتیں ہیں، وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوں کہ اہل مکہ کے سامنے کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایاتھا۔ اس لیے آپ کی رسالت کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ اگر خدا کے بھیجے ہوئے ہیں تو پچھلے پیغمبروں کی طرح خدا کے پاس سے کوئی معجزہ لے کر کیوں نہیں آئے۔

مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دلیل سے بات کو نہ مانیں وہ معجزہ کو دیکھ کر بھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اس ليے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ دلیل کی زبان میں ان کی نصیحت جاری رکھی جائے، نہ کہ معجزہ دکھا کر ان پر اتمام حجت کردی جائے۔ کیوں کہ معجزے سے نہ ماننے کے بعد دوسرا مرحلہ ہلاکت ہوتا ہے۔