Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:35

21:35
كل نفس ذايقة الموت ونبلوكم بالشر والخير فتنة والينا ترجعون ٣٥
كُلُّ نَفْسٍۢ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلْخَيْرِ فِتْنَةًۭ ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ٣٥
كُلُّ
نَفۡسٖ
ذَآئِقَةُ
ٱلۡمَوۡتِۗ
وَنَبۡلُوكُم
بِٱلشَّرِّ
وَٱلۡخَيۡرِ
فِتۡنَةٗۖ
وَإِلَيۡنَا
تُرۡجَعُونَ
٣٥
Mỗi một linh hồn đều phải nếm cái chết; TA thử thách các ngươi với điều xấu và điều tốt. Và các ngươi đều sẽ được đưa trở về trình diện TA.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:34 đến 21:35
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭

جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:26-27] ‏ ” تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے “۔

اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ خضر علیہ السلام مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے، ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں، تھے تو انسان ہی۔ ” ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ “ ایسا تو محض ناممکن ہے، دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔

پھر فرمایا «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» [آیت35] ‏ ” موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا “۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔‏“

پھر فرماتا ہے ”بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے ہم اپنے بندوں کو آزما لیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا، صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:440/18:] ‏ یہ سب آزمائشیں ہیں۔ اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کوسزا نیکوں کو جزا ملے گی “۔

صفحہ نمبر5417