Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 75

6:75
وكذالك نري ابراهيم ملكوت السماوات والارض وليكون من الموقنين ٧٥
وَكَذَٰلِكَ نُرِىٓ إِبْرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلْمُوقِنِينَ ٧٥
وَكَذَٰلِكَﱑ
نُرِيٓﱒ
إِبۡرَٰهِيمَﱓ
مَلَكُوتَﱔ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﱕ
وَٱلۡأَرۡضِﱖ
وَلِيَكُونَﱗ
مِنَﱘ
ٱلۡمُوقِنِينَﱙ
٧٥ﱚ
Tương tự (như việc cho Ibrahim thấy sự lầm lạc của cha Y và người dân), TA cho Ibrahim thấy thêm việc chi phối các tầng trời và trái đất (để Y nhận thức được quyền năng vô biên của Allah) và để cho Y trở thành một người có đức tin kiên định.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 75 وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہاں ملکوت سے مراد یہ پورا نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کائنات کو چلا رہا ہے۔ یہ نظام گویا ایک Universal Government ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ کارندے اسے چلا رہے ہیں۔ اس نظام کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو کراتا ہے تاکہ ان کا یقین اس درجے کا ہوجائے جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔اس فقرے میں و کی وجہ سے ہم اس سے پہلے یہ فقرہ محذوف مانیں گے : تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرسکے وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ اور ہوجائے پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے۔اب آگے جو تفصیل آرہی ہے یہ در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنی قوم پر حجت پیش کرنے کا ایک انداز ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ذہنی ارتقاء کے کچھ مراحل ہیں ‘ کہ واقعتا انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ستارہ میرا خدا ہے۔ پھر جب وہ چھپ گیا تو انہوں نے سمجھا کہ نہیں نہیں یہ تو ڈوب گیا ہے ‘ یہ خدا نہیں ہوسکتا۔ پھر چاند کو دیکھ کر ایسا ہی سمجھا۔ پھر سورج کو دیکھا تو ایسا ہی خیال ان کے دل میں آیا۔ یہ بعض حضرات کی رائے ہے اور ان الفاظ سے ایسا کچھ متبادر بھی ہوتا ہے ‘ لیکن اس سلسلے میں زیادہ صحیح رائے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ آگے آیت 83 کے ان الفاظ سے اس موقف کی تائید بھی ہوتی ہے : وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط پھر یہ بات بھی واضح رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اللہ کے نبی تھے اور کوئی بھی نبی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اس کی فطرت اور سرشت اتنی خالص ہوتی ہے کہ وہ کبھی شرک میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتا۔ انبیاء کا مرتبہ تو بہت ہی بلند ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تو صدیقین کو یہ شان عطا کی ہے کہ وہ بھی شرک میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رض جو صحابہ کرام رض میں سے صدیقین ہیں ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی کبھی شرک نہیں کیا تھا۔