Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 73

6:73
وهو الذي خلق السماوات والارض بالحق ويوم يقول كن فيكون قوله الحق وله الملك يوم ينفخ في الصور عالم الغيب والشهادة وهو الحكيم الخبير ٧٣
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ ٱلْحَقُّ ۚ وَلَهُ ٱلْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ ٧٣
وَهُوَﲳ
ٱلَّذِيﲴ
خَلَقَﲵ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﲶ
وَٱلۡأَرۡضَﲷ
بِٱلۡحَقِّۖﲸﲹ
وَيَوۡمَﲺ
يَقُولُﲻ
كُنﲼ
فَيَكُونُۚﲽﲾ
قَوۡلُهُﲿ
ٱلۡحَقُّۚﳀﳁ
وَلَهُﳂ
ٱلۡمُلۡكُﳃ
يَوۡمَﳄ
يُنفَخُﳅ
فِيﳆ
ٱلصُّورِۚﳇﳈ
عَٰلِمُﳉ
ٱلۡغَيۡبِﳊ
وَٱلشَّهَٰدَةِۚﳋﳌ
وَهُوَﳍ
ٱلۡحَكِيمُﳎ
ٱلۡخَبِيرُﳏ
٧٣ﳐ
Ngài là Đấng đã tạo hóa các tầng trời và trái đất vì chân lý. Vào Ngày mà Ngài phán (khi muốn điều gì đó) “Hãy thành” thì nó lập tức sẽ thành, (đó là Ngày Tận Thế, Allah phán bảo các ngươi hãy đứng dậy thì tất cả nhân loại đều đứng dậy). Lời phán của Ngài là sự thật. Ngài nắm toàn quyền trong Ngày mà tiếng còi được thổi lên. Ngài biết điều vô hình và hữu hình và Ngài là Đấng Chí Minh, Đấng Thông Toàn.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:71 đến 6:73

جو لوگ خداکے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا ميں بھٹک رہاہو۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتاہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتاہے۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے، ادھر آجاؤ، مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے، صحیح راستہ کو دیکھنے میںاس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیںہوتی۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کي عقل شیطان کے زیر اثر آجاتی ہے۔ اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیںکرتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔

خداکے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ نقصان کی طاقت نہیں رکھتیں۔ زمین وآسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کررہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصود بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائي اورانصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے، وہ بھی سر اسر باطل ہے۔ کیوں کہ انسانی زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہوجائے تو یہ دنیا بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انانیت پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس باکمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے۔

دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہوجائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہوجائے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات پر قائم ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہوں گے جنھوںنے امتحان کے زمانہ میں اپنے کو خدا کے حوالے کیا تھا، جو کسی دباؤ کے بغیر اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے آگے ہمہ تن جھک جانے والے تھے۔