Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 68

6:68
واذا رايت الذين يخوضون في اياتنا فاعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره واما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين ٦٨
وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَـٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٦٨
وَإِذَاﳆ
رَأَيۡتَﳇ
ٱلَّذِينَﳈ
يَخُوضُونَﳉ
فِيٓﳊ
ءَايَٰتِنَاﳋ
فَأَعۡرِضۡﳌ
عَنۡهُمۡﳍ
حَتَّىٰﳎ
يَخُوضُواْﳏ
فِيﳐ
حَدِيثٍﳑ
غَيۡرِهِۦۚﳒﳓ
وَإِمَّاﳔ
يُنسِيَنَّكَﳕ
ٱلشَّيۡطَٰنُﳖ
فَلَاﳗ
تَقۡعُدۡﳘ
بَعۡدَﳙ
ٱلذِّكۡرَىٰﳚ
مَعَﳛ
ٱلۡقَوۡمِﳜ
ٱلظَّٰلِمِينَﳝ
٦٨ﳞ
Khi Ngươi (hỡi Thiên Sứ) thấy những kẻ (vô đức tin) nhạo báng các Lời Mặc Khải của TA thì Ngươi hãy tránh xa họ cho đến khi nào họ chuyển sang chủ đề khác. Còn nếu Ngươi bị Shaytan làm cho quên mà ngồi cùng với họ thì sau khi nhớ lại, Ngươi chớ đừng tiếp tục ngồi cùng với đám người sai quấy đó nữa.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:68 đến 6:69

آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر تم ان کے پاس جاسکتے ہو۔وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ ۔یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اور کچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں ‘ لیکن جونہی احساس ہوجائے کہ ان کی گفتگو اور انداز گفتگو قابل اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فوراً وہاں سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ اب چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا ان کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہٰذا ایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہترصورت حال کے منتظر رہو ‘ اور جب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہو تو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی وہی قَا لُوْا سَلٰمًا والا انداز ہونا چاہیے کہ علیحدہ بھی ہوں تو لٹھ مار کر نہ ہوا جائے بلکہ چپکے سے ‘ متانت کے ساتھ کنارہ کرلیا جائے۔