Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 37

6:37
وقالوا لولا نزل عليه اية من ربه قل ان الله قادر على ان ينزل اية ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٣٧
وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةًۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٣٧
وَقَالُواْﱎ
لَوۡلَاﱏ
نُزِّلَﱐ
عَلَيۡهِﱑ
ءَايَةٞﱒ
مِّنﱓ
رَّبِّهِۦۚﱔﱕ
قُلۡﱖ
إِنَّﱗ
ٱللَّهَﱘ
قَادِرٌﱙ
عَلَىٰٓﱚ
أَنﱛ
يُنَزِّلَﱜ
ءَايَةٗﱝ
وَلَٰكِنَّﱞ
أَكۡثَرَهُمۡﱟ
لَاﱠ
يَعۡلَمُونَﱡ
٣٧ﱢ
(Những kẻ đa thần) nói: “Sao Y (Muhammad) không được ban cho một phép lạ từ Thượng Đế của mình (để làm minh chứng cho sứ mạng của Y cơ chứ?) Ngươi (Thiên Sứ) hãy nói: “Chắc chắn Allah thừa khả năng ban xuống một phép lạ (theo ý muốn của họ) nhưng đa số bọn họ lại không biết (Allah chỉ ban phép lạ xuống theo mục đích Ngài muốn chứ không theo ý của họ).
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:37 đến 6:39

ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا — وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیرمعمولی نشانی کیوں نہیں، جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ لوگوں کی بے علمی کا ہے۔ نشانیاں تو بے شمار تعداد میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں جب لوگ اِن موجود نشانیوں سے سبق نہیں لے رہے ہیں تو کوئی نئی نشانی اتارنے سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ طرح طرح کے چلنے والے جانور اور مختلف قسم کے اڑنے والی چڑیاں جو زمین میں اور فضا میں موجودہیں وہ تمھارے لیے نشانیاں ہی تو ہیں۔ ان تمام زندہ مخلوقات سے بھی اللہ کو وہی کچھ مطلوب ہے جو تم سے مطلوب ہے۔ اور ہر ایک سے جو کچھ مطلوب ہے وہ خدا نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، انسان کو شرعی طورپر اور دوسری مخلوقات کو جبلّی طور پر۔ چڑیوں اور جانوروں جیسی مخلوقات خدا کے لکھے پر پورا پورا عمل کررہی ہے۔ مگر انسان خدا کے لکھے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے یہ معاملہ نشانی کا نہیں بلکہ اندھے پن کا ہے، بقیہ تمام مخلوقات جو دین اختیار کیے ہوئے ہیں، انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنے کا جواز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن کو عمل کرنا ہے وہ نشانی کا مطالبہ کیے بغیر عمل کررہے ہیں اور جن کو عمل کرنا نہیں ہے وہ نشانیوں کے ہجوم میں رہ کر نشانیاں مانگ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے کہ قیامت میں سب کو جمع کرکے دکھا دیا جائے کہ ہر قسم کے حیوانات کس طرح حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرکے خدا کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ صرف انسان تھاجو اس سے انحراف کرتا رہا۔

جانوروں کی دنیا مکمل طورپر مطابق فطرت دنیا ہے۔ ان کے یہاں رزق کی تلاش ہے مگر لوٹ اور ظلم نہیں ہے۔ ان کے یہاں ضرورت ہے مگر حرص اور خود غرضی نہیں۔ ان کے یہاں باہمی تعلقات ہیں مگر ایک دوسرے کی کاٹ نہیں۔ ان کے یہاں اونچ نیچ ہے مگر حسد اور غرور نہیں۔ ان کے یہاں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے مگر بغض وعداوت نہیں۔ ان کے یہاں کام ہو رہے هيں مگر انھیں کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔ مگر انسان سرکشی کرتا ہے۔ وہ خدائی نقشہ کا پابند بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ انسان سے جس چیز کا مطالبہ ہے وہ ٹھیک وہی ہے جس پر دوسرے حیوانات قائم ہیں۔ پھر اس کے ليے معجزہ مانگنے کی کیا ضرورت ۔ حیوانات کی صورت میں چلتی پھرتی نشانیاں کیا آدمی کے سبق کے ليے کافی نہیں ہیں جو خدائی طریق عمل کا زندہ نمونہ پیش کررہی ہیں اور اس طرح پیغمبر کی تعلیمات کے بر حق ہونے کی عملی تصدیق کرتی ہیں۔