Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:159

6:159
ان الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعا لست منهم في شيء انما امرهم الى الله ثم ينبيهم بما كانوا يفعلون ١٥٩
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ١٥٩
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
فَرَّقُواْ
دِينَهُمۡ
وَكَانُواْ
شِيَعٗا
لَّسۡتَ
مِنۡهُمۡ
فِي
شَيۡءٍۚ
إِنَّمَآ
أَمۡرُهُمۡ
إِلَى
ٱللَّهِ
ثُمَّ
يُنَبِّئُهُم
بِمَا
كَانُواْ
يَفۡعَلُونَ
١٥٩
Quả thật, những kẻ đã phân chia tôn giáo và thành lập giáo phái riêng (như những người Do Thái và Thiên Chúa) thì Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hoàn toàn vô can với mọi hành động (lầm lạc) của họ. Vấn đề của họ chỉ liên quan đến Allah, rồi Ngài sẽ cho họ biết về mọi thứ mà họ đã từng làm.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
اہل بدعت گمراہ ہیں ٭٭

کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14257:] ‏

ایک حدیث میں ہے «شَيْءٍ» تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14271] ‏ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہو۔

ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد خارجی ہیں۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم:8150/6:ضعیف] ‏ یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔

ایک اور غریب حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مراد اس سے اہل بدعت ہے ۔ [طبرانی صغیر:203/1:ضعیف] ‏ اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔

بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرے اور اس میں پھوٹ اور افتراق پیدا کرے گمراہی کی اور خواہش پرستی کی پیروی کرے، نیا دین اختیار کرے، نیا مذہب قبول کرے وہی وعید میں داخل ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس حق کو لے کر آئے ہیں وہ ایک ہی ہے کئی ایک نہیں۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقہ بندی سے بچایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا ہے۔

صفحہ نمبر2825

اسی مضمون کی دوسری آیت «شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ» [42-الشورى:13] ‏ ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ ہم جماعت انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں۔ ہم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

پس صراط مستقیم اور دین پسندیدہ اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع ہے اس کے خلاف جو ہو ضلالت جہالت رائے خواہش اور بددینی ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں ان کا معاملہ سپرد رب ہے وہی انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کرے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّـهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» [22-الحج:17] ‏ ” مومنوں، یہودیوں، صابیوں اور نصرانیوں میں مجوسیوں میں مشرکوں میں اللہ خود قیامت کے دن فیصلے کر دے گا “ اس کے بعد اپنے احسان حکم اور عدل کا بیان فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر2826