Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Ahqaf Ayah 9

46:9
قل ما كنت بدعا من الرسل وما ادري ما يفعل بي ولا بكم ان اتبع الا ما يوحى الي وما انا الا نذير مبين ٩
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًۭا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِى وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ وَمَآ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ ٩
قُلۡﱸ
مَاﱹ
كُنتُﱺ
بِدۡعٗاﱻ
مِّنَﱼ
ٱلرُّسُلِﱽ
وَمَآﱾ
أَدۡرِيﱿ
مَاﲀ
يُفۡعَلُﲁ
بِيﲂ
وَلَاﲃ
بِكُمۡۖﲄﲅ
إِنۡﲆ
أَتَّبِعُﲇ
إِلَّاﲈ
مَاﲉ
يُوحَىٰٓﲊ
إِلَيَّﲋ
وَمَآﲌ
أَنَا۠ﲍ
إِلَّاﲎ
نَذِيرٞﲏ
مُّبِينٞﲐ
٩ﲑ
Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) hãy nói (với họ): “Ta không phải là người sáng lập ra điều mới trong số các Sứ Giả (của Allah), Ta cũng không biết điều gì sẽ xảy đến cho Ta và cho các người. Quả thật, Ta chỉ tuân theo điều đã được mặc khải cho Ta và Ta thực sự chỉ là một người cảnh báo công khai mà thôi.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 9 { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں“ بِدْعًا کے معنی نیا نویلا یا نرالاہونے کے ہیں۔ لفظ ”بدعت“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ بدعت سے اصطلاحاً وہ چیز مراد ہے جو اصل میں دین کا حصہ نہ ہو بلکہ کسی وجہ سے دین میں رائج کردی گئی ہو۔ بہر حال یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میرا رسول ﷺ بن کر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو آخری رسول ﷺ ہوں۔ بہت سے رسول علیہ السلام مجھ سے پہلے بھی دنیا میں آ چکے ہیں۔ سورة آلِ عمران میں حضور ﷺ کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ } آیت 144 ”اور محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں“۔ سورة المائدۃ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں : { مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ } آیت 75 ”مسیح علیہ السلام ابن مریم اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک رسول علیہ السلام تھے ‘ ان علیہ السلام سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔“ { وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ } ”اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔“ اس سے آخرت کا معاملہ مراد نہیں ہے ‘ کیونکہ آخرت کے بارے میں تو آنحضور ﷺ کو بہت واضح انداز میں بتادیا گیا تھا : { وَلَـلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ الضحیٰ یعنی آپ ﷺ کے لیے آخرت یقینا دنیا سے بہت بہتر ہوگی۔ بلکہ آیت زیر مطالعہ کا اشارہ اس کش مکش کی طرف ہے جو حضور ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان مسلسل جاری تھی۔ جیسے حضور ﷺ ایک امیدلے کر طائف تشریف لے گئے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہوا وہ آپ ﷺ کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے دسویں سال جب جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو آپ ﷺ کے اپنے قبیلے بنو ہاشم نے بھی آپ ﷺ سے اظہارِ براءت کردیا۔ اس کے بعد مکہ میں دنیوی اعتبار سے آپ ﷺ کا کوئی حلیف یا حمایتی نہ رہا۔ ان حالات میں آپ ﷺ طائف تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کا خیال تھا کہ اہل طائف میں سے اگر کوئی بڑا سردار ایمان لے آیا تو میں اپنی دعوت کا مرکز وہاں منتقل کرلوں گا۔ لیکن اہل طائف کا رویہ اہل ِمکہ ّسے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا مکہ کے ماحول میں جاری کشیدگی کے حوالے سے یہاں آپ ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اس چپقلش کے اندر آئندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کیا پیش آنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ} ”میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے ‘ اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔“