اُنہوں نے کہا”اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے۔“1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
قال إخوة يوسف: جزاء السارق مَن وُجِد المسروق في رحله فهو جزاؤه. أي يسلَّم بسرقته إلى مَن سرق منه حتى يكون عبدًا عنده، مثل هذا الجزاء -وهو الاسترقاق- نجزي الظالمين بالسرقة، وهذا ديننا وسنتنا في أهل السرقة.