سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tafsir Muyassar تفسیر: يوسف آیہ 66

12:66
قال لن ارسله معكم حتى توتون موثقا من الله لتاتنني به الا ان يحاط بكم فلما اتوه موثقهم قال الله على ما نقول وكيل ٦٦
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ ٦٦
قَالَ
لَنْ
اُرْسِلَهٗ
مَعَكُمْ
حَتّٰی
تُؤْتُوْنِ
مَوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
لَتَاْتُنَّنِیْ
بِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّحَاطَ
بِكُمْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اٰتَوْهُ
مَوْثِقَهُمْ
قَالَ
اللّٰهُ
عَلٰی
مَا
نَقُوْلُ
وَكِیْلٌ
۟
یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
قال لهم يعقوب عليه السلام: لن أتركه يذهب معكم حتى تتعهدوا وتحلفوا لي بالله أن تردوه إليَّ، إلا أن تُغْلبوا عليه فلا تستطيعوا تخليصه، فلما أعطَوْه عهد الله على ما طلب، قال يعقوب: الله على ما نقول وكيل، أي تكفينا شهادته علينا وحفظه لنا.