سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

فی ظلال القرآن يوسف کی تفسیر، آیت 2

12:2
انا انزلناه قرانا عربيا لعلكم تعقلون ٢
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ٢
اِنَّاۤ
اَنْزَلْنٰهُ
قُرْءٰنًا
عَرَبِیًّا
لَّعَلَّكُمْ
تَعْقِلُوْنَ
۟
ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن1 بنا کر عربی زبان میں تا کہ تم (اہلِ عرب)اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔2
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یعنی تم اس بات کو سمجھ سکو کہ متداول حروف تہجی اور عام بولے جانے والے کلمات سے ایک ایسی کتاب مرتب کرنا جو معجز ہو کسی انسان کی استطاعت میں نہیں ہے۔ لہذا عقلاً یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن وحی الہی ہے ، گویا عقل کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ کتاب الہی کے اس اعجازی پہلو رپ غور کرے اور اس سے نتائج اخذ کرے۔

چونکہ اس سورت کا بیشتر حصہ ایک قصے پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس کتاب کے موضوعات میں سے قصے کے موضوع کی صراحت کردی گئی اور یہ فرمایا کہ یہ قصہ احسن القصس ہے۔