سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: يوسف آیہ 102

12:102
ذالك من انباء الغيب نوحيه اليك وما كنت لديهم اذ اجمعوا امرهم وهم يمكرون ١٠٢
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ ١٠٢
ذٰلِكَ
مِنْ
اَنْۢبَآءِ
الْغَیْبِ
نُوْحِیْهِ
اِلَیْكَ ۚ
وَمَا
كُنْتَ
لَدَیْهِمْ
اِذْ
اَجْمَعُوْۤا
اَمْرَهُمْ
وَهُمْ
یَمْكُرُوْنَ
۟
یہ ہے غیب کی خبروں میں سے جو ہم وحی کرتے ہیں (اے محمد) آپ کی طرف اور آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے اتفاقِ رائے کیا تھا اپنے معاملے پر اور جب وہ لوگ سازش کر رہے تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 12:100 سے 12:102 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 100 وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًایہ سجدۂ تعظیمی تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ شریعت محمدی میں جہاں دین کی تکمیل ہوگئی وہاں توحید کا معاملہ بھی آخری درجے میں تکمیل کو پہنچا دیا گیا۔ چناچہ یہ سجدۂ تعظیمی اب حرام مطلق ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں یا قبروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کرام کے حالات و واقعات سے آج اس کے لیے کوئی دلیل اخذ کرنا قطعاً درست نہیں۔وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ حضرت یوسف کے اس خواب کا ذکر آیت 4 میں ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس میں گیارہ بھائی ستاروں کی مانند جبکہ والدین سورج اور چاند کے حکم میں ہیں۔وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ آپ لوگوں کو صحرا کی پر مشقت زندگی سے نجات دلا کر یہاں مصر کے متمدن اور ترقی یافتہ ماحول میں پہنچا دیا ‘ جہاں زندگی کی ہر سہولت میسر ہے۔ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق باریک بینی سے تدبیر کرتا ہے اور اس کی تدبیر بالآخر کامیاب ہوتی ہے۔ اس کے بعد حضرت یوسف اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں :