سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:88

20:88
فاخرج لهم عجلا جسدا له خوار فقالوا هاذا الاهكم والاه موسى فنسي ٨٨
فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌۭ فَقَالُوا۟ هَـٰذَآ إِلَـٰهُكُمْ وَإِلَـٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِىَ ٨٨
فَاَخْرَجَ
لَهُمْ
عِجْلًا
جَسَدًا
لَّهٗ
خُوَارٌ
فَقَالُوْا
هٰذَاۤ
اِلٰهُكُمْ
وَاِلٰهُ
مُوْسٰی ۬
فَنَسِیَ
۟ؕ
پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا برآمد کردیا ایک دھڑ جس سے ڈکرانے کی آواز آتی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ ؑ کا معبود مگر وہ (موسیٰ ؑ ٰ) بھول گیا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

ھذا الھکم والہ موسیٰ (02 : 88) ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ “ موسیٰ اسے پہاڑ پر ڈھونڈ رہا ہے اور وہ یہ ہے ہمارے پاس ، اور موسیٰ نے رب کا راستہ ہی بھلا دیا۔

یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ان کی بےشعوری اور کم عقلی بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس قدر آسانی سے اپنے اس نبی پر تہمت لگا رہے ہیں جس کے زیر قیادت ابھی ابھی اللہ کی زیر نگرانی اور زیر نظر انہوں نے نجات پائی اور عین اللہ کی ہدایات کے مطابق ان کو یہ آزادی حاصل ہوئی ۔ ایسے حالات میں ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے رب سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے ، انہوں نے راستہ ہی خطا کردیا اور وہ رب تک پہنچ ہی نہ پائے۔ یہ ایک بہت بڑی جسارت ہے ان کی طرف سے لیکن وہ بنی اسرائیل تھے۔

یہ بات وہ بظاہر تو بطور عذر کر رہے ہیں لیکن درصال یہ ان کی جانب سے واضح دھوکہ ہے۔