سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن طه کی تفسیر، آیت 72

20:72
قالوا لن نوثرك على ما جاءنا من البينات والذي فطرنا فاقض ما انت قاض انما تقضي هاذه الحياة الدنيا ٧٢
قَالُوا۟ لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلَّذِى فَطَرَنَا ۖ فَٱقْضِ مَآ أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِى هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَآ ٧٢
قَالُوْا
لَنْ
نُّؤْثِرَكَ
عَلٰی
مَا
جَآءَنَا
مِنَ
الْبَیِّنٰتِ
وَالَّذِیْ
فَطَرَنَا
فَاقْضِ
مَاۤ
اَنْتَ
قَاضٍ ؕ
اِنَّمَا
تَقْضِیْ
هٰذِهِ
الْحَیٰوةَ
الدُّنْیَا
۟ؕ
انہوں نے کہا : اب ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آ چکے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے چناچہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے توُ تو صرف فیصلہ کرسکتا ہے اسی دنیا کی زندگی کا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 72 قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا ”اب ہمارے رب کی طرف سے ہم پر حق واضح کردیا گیا ہے ‘ حقیقت ہم پر منکشف ہوچکی ہے ‘ ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں ‘ اب ہمارے لیے تیری مرضی و منشا کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ط ”اب تو ہمیں جو سزا دینا چاہے دے لے ‘ خواہ ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ‘ مگر ہم جس حق پر ایمان لائے ہیں اب اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اِنَّمَا تَقْضِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ”تو ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہے ؟ صرف ہماری اس دنیوی زندگی ہی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتا ہے نا ! جو آج نہیں تو کل ‘ کل نہیں تو پرسوں ویسے بھی ختم ہونے والی ہے۔ اگر تو اسے کل کے بجائے آج ختم کر دے گا تو اس میں ہمارے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں :