سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: طه آیہ 57

20:57
قال اجيتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرك يا موسى ٥٧
قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَـٰمُوسَىٰ ٥٧
قَالَ
اَجِئْتَنَا
لِتُخْرِجَنَا
مِنْ
اَرْضِنَا
بِسِحْرِكَ
یٰمُوْسٰی
۟
اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ اپنے اس جادو کے بل پر ہمیں ہماری سر زمین سے نکال باہر کرو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:52 سے 20:57 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :