سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: طه آیہ 54

20:54
كلوا وارعوا انعامكم ان في ذالك لايات لاولي النهى ٥٤
كُلُوا۟ وَٱرْعَوْا۟ أَنْعَـٰمَكُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ ٥٤
كُلُوْا
وَارْعَوْا
اَنْعَامَكُمْ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیٰتٍ
لِّاُولِی
النُّهٰی
۟۠
کھاؤ تم خود بھی اور چراؤ اپنے مویشیوں کو بھی۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:53 سے 20:55 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

زمین کی پیدائش، بارش کا نظام، نباتات کا اگنا، اور دوسرے اہتمامات جس نے موجودہ دنیا کو زندہ چیزوں کے لیے قابلِ رہائش بنایا ہے، وہ حیرت ناک حد تک عظیم ہیں۔

یہ ایک ’’نشانی‘‘ ہے جو ثابت کرتی ہے، اس دنیا کا خالق ومالک ایک عظیم خدا ہے۔ موجودہ دنیا جیسی دنیا کو وجود میں لانے کے لیے اتنی بڑی قدرت درکار ہے جو نہ کسی ’’سورج‘‘ کو حاصل ہے اور نہ کسی ’’بادشاہ‘‘ کو۔ ایسی حالت میں یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس کو بنانے اور چلانے والا ایک برتر خدا ہے۔

پھر اسی سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ دنیا عبث دنیا نہیںہے۔ جو یوں ہی پیدا ہو اور یوں ہی ختم ہوجائے۔ با معنی دنیا لازمی طورپر ایک بامعنی انجام چاہتی ہے۔ اسی طرح دنیا کا مشاہدہ بیک وقت توحید کو بھی ثابت کررہا ہے اور آخرت کو بھی۔