سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
20:53
الذي جعل لكم الارض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وانزل من السماء ماء فاخرجنا به ازواجا من نبات شتى ٥٣
ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ مَهْدًۭا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًۭا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّن نَّبَاتٍۢ شَتَّىٰ ٥٣
الَّذِیْ
جَعَلَ
لَكُمُ
الْاَرْضَ
مَهْدًا
وَّسَلَكَ
لَكُمْ
فِیْهَا
سُبُلًا
وَّاَنْزَلَ
مِنَ
السَّمَآءِ
مَآءً ؕ
فَاَخْرَجْنَا
بِهٖۤ
اَزْوَاجًا
مِّنْ
نَّبَاتٍ
شَتّٰی
۟
وہی جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے (چلنے کے) لیے راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس (پانی) سے نکالے طرح طرح کے نباتات
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:52 سے 20:57 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :