سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
20:130
فاصبر على ما يقولون وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن اناء الليل فسبح واطراف النهار لعلك ترضى ١٣٠
فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ ١٣٠
فَاصْبِرْ
عَلٰی
مَا
یَقُوْلُوْنَ
وَسَبِّحْ
بِحَمْدِ
رَبِّكَ
قَبْلَ
طُلُوْعِ
الشَّمْسِ
وَقَبْلَ
غُرُوْبِهَا ۚ
وَمِنْ
اٰنَآئِ
الَّیْلِ
فَسَبِّحْ
وَاَطْرَافَ
النَّهَارِ
لَعَلَّكَ
تَرْضٰی
۟
تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبر کیجیے اس پر جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اور تسبیح بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ اوقات میں بھی تسبیح کیجیے اور دن کے اطراف میں بھی تاکہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَاج ”یہ نماز فجر اور نماز مغرب کی طرف اشارہ ہے۔وَمِنْ اٰنَآیئ الَّیْلِ فَسَبِّحْ ”اس سے نماز مغرب اور عشاء مراد ہیں۔وَاَطْرَاف النَّہَارِ ”دن کے دونوں اطراف سے دن کے آغاز اور سورج ڈھلنے کے بعد کے اوقات مراد ہیں۔ دن کے آغاز میں صلوٰۃ الضحیٰ یا نماز چاشت کا وقت ہے جبکہ سورج ڈھلنے کے بعد نماز ظہر کا۔ یعنی نصف النہار کے بعد جتنے وقفے پر نماز ظہر کا وقت ہے تقریباً اتنے ہی وقفے پر نصف النہار سے پہلے نماز چاشت کا وقت ہے۔ نمازوں کی تعداد اصل میں آٹھ ہے۔ ان میں سے تین کو فرض نہیں رکھا گیا جن کے اوقات چوبیس گھنٹوں میں بڑی خوبصورتی سے برابر تقسیم پر رکھے گئے ہیں ‘ اس طرح کہ تقریباً ہر تین گھنٹے بعد نماز کا وقت ہے۔ لیکن ان میں سے صرف پانچ نمازوں کو فرض کیا گیا ہے ‘ باقی تین اشراق ‘ چاشت ‘ اور تہجد کو نفلی قرار دے دیا گیا تاکہ عام لوگوں کو فجر سے ظہر تک اپنی معاشی سرگرمیوں کے لیے اور رات کو آرام کے لیے تسلسل کے ساتھ مناسب وقت مل سکے۔لَعَلَّکَ تَرْضٰی ”اگر آپ ﷺ اس پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو خوش کردیں گے۔ ان احکام کی تعمیل کا ایسا اجر ملے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے۔