سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:128

20:128
افلم يهد لهم كم اهلكنا قبلهم من القرون يمشون في مساكنهم ان في ذالك لايات لاولي النهى ١٢٨
أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ ١٢٨
اَفَلَمْ
یَهْدِ
لَهُمْ
كَمْ
اَهْلَكْنَا
قَبْلَهُمْ
مِّنَ
الْقُرُوْنِ
یَمْشُوْنَ
فِیْ
مَسٰكِنِهِمْ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیٰتٍ
لِّاُولِی
النُّهٰی
۟۠
تو کیا انہیں اس بات سے کوئی راہنمائی نہیں ملی کہ ہم نے ہلاک کردیا ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو وہ بھی چلتے پھرتے تھے (اسی طرح) اپنی آبادیوں میں یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

جب انسان اپنے دل و دماغ کو زمانہ ماضی کی ہلکا شدہ اقوام کی تاریخ پر مرکوز کرتا ہے اور ان کے کھنڈرات کو ، وادیوں اور پہاڑیوں میں دیکھتا ہے تو اگرچہ یہ لوگ کب کے ہلکا ہوگئے ہیں لیکن ان کی بڑی بڑی شخصیات ، ان کی بھاگتی ہوئی شکلیں ، ان کی حرکات و سکنات ، ان کی امنگیں اور آرزوئیں ، ان کی پریشانیاں اور ان کے منصوبے انسان کے ذہن کو بھر دیتے ہیں او انسان جب تک آنکھیں بند کر کے محض تصور ہی کرے تو یہ پوری دنیا ہمارے ذہن کی اسکرین پر بھی نظر آتی ہے اور جب انسان اچانک آنکھ کھولے تو نظر آتا ہے کہ ماضی کی عقوبت نے ان سب بستیوں کو ہڑپ کرلیا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ دست قدرت نے کس طرح ان لوگوں کو اور ان تہذیبوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔ اس طرح زمانہ حال کے ان غافلوں کو بھی دست قدرت نابود کرسکتا ہے۔ یوں اس طرز تصور سے اس آیت کا مفہوم اور قرآن کا انداز بیان اور عبرت آموزی اچھی طرح انسان کے ذہن میں آجاتی ہے۔ تعجب ہے کہ لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ ان کھنڈرات میں تو عبرت کے بہت بڑے سامان ہیں بشرطیکہ عقل سلیم ہو۔

اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور یہ بات اللہ کی خاص حکمت کے تحت طے نہ ہوگئی ہوتی تو اللہ اہل قریش کو بھی بعینہ اسی طرح نیست و نابود کردیتا اور یہ بھی نمونہ عبرت بن جاتے لیکن ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت مل چکی ہے۔