سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر طه کی تفسیر، آیت 127

20:127
وكذالك نجزي من اسرف ولم يومن بايات ربه ولعذاب الاخرة اشد وابقى ١٢٧
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنۢ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِۦ ۚ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰٓ ١٢٧
وَكَذٰلِكَ
نَجْزِیْ
مَنْ
اَسْرَفَ
وَلَمْ
یُؤْمِنْ
بِاٰیٰتِ
رَبِّهٖ ؕ
وَلَعَذَابُ
الْاٰخِرَةِ
اَشَدُّ
وَاَبْقٰی
۟
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں)بدلہ دیتے ہیں ، 1 اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
دنیا کی سزائیں ٭٭

جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا و آخرت کے عذابوں میں مبتلاکرتے ہیں۔ خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہو گا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔ [صحیح مسلم:1493] ‏

صفحہ نمبر5358