سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: طه آیہ 105

20:105
ويسالونك عن الجبال فقل ينسفها ربي نسفا ١٠٥
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفًۭا ١٠٥
وَیَسْـَٔلُوْنَكَ
عَنِ
الْجِبَالِ
فَقُلْ
یَنْسِفُهَا
رَبِّیْ
نَسْفًا
۟ۙ
اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دے گا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:99 سے 20:108 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قیامت میں موجودہ زمین ایک وسیع اور ہموار فرش کی مانند بنادی جائے گی۔ اس وقت یہاںنہ پہاڑوں کی بلندیاں ہوں گی اور نہ دریاؤں کی گہرائیاں۔ تمام انسان دوبارہ پیدا ہوکر اس زمین پر جمع کيے جائیں گے۔ دنیا میں خدا کی آواز خدا کے داعی کی زبان سے بلند ہوتی ہے تو لوگ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر قیامت میں جب خدا براہِ راست لوگوں کو پکارے گا تو سارے انسان کسی ادنیٰ انحراف کے بغیر اس کی آواز کی طرف چل پڑیںگے۔ لوگوں پر اس قدر ہول طاری ہوگا کہ کسی کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلے گا۔ لوگوں کے چلنے کی سرسراہٹ کے سوا کوئی اور آواز نہ ہوگی جو اس وقت لوگوں کو سنائی دے۔