سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: ص 38:8

38:8
اانزل عليه الذكر من بيننا بل هم في شك من ذكري بل لما يذوقوا عذاب ٨
أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ مِّن ذِكْرِى ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ ٨
ءَاُنْزِلَ
عَلَیْهِ
الذِّكْرُ
مِنْ
بَیْنِنَا ؕ
بَلْ
هُمْ
فِیْ
شَكٍّ
مِّنْ
ذِكْرِیْ ۚ
بَلْ
لَّمَّا
یَذُوْقُوْا
عَذَابِ
۟ؕ
کیا اسی پر نازل ہوا ہے یہ ذکر ہمارے درمیان ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے معاملے میں شک میں پڑگئے ہیں بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 38:6 سے 38:11 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُ‌وا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.