سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
38:72
فاذا سويته ونفخت فيه من روحي فقعوا له ساجدين ٧٢
فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَـٰجِدِينَ ٧٢
فَاِذَا
سَوَّیْتُهٗ
وَنَفَخْتُ
فِیْهِ
مِنْ
رُّوْحِیْ
فَقَعُوْا
لَهٗ
سٰجِدِیْنَ
۟
تو جب میں اس کو پوری طرح درست کر دوں اور میں اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم گرپڑنا اس کے سامنے سجدے میں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 38:71 سے 38:78 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔

آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔