سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن ص کی تفسیر، آیت 45

38:45
واذكر عبادنا ابراهيم واسحاق ويعقوب اولي الايدي والابصار ٤٥
وَٱذْكُرْ عِبَـٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَـٰرِ ٤٥
وَاذْكُرْ
عِبٰدَنَاۤ
اِبْرٰهِیْمَ
وَاِسْحٰقَ
وَیَعْقُوْبَ
اُولِی
الْاَیْدِیْ
وَالْاَبْصَارِ
۟
اور ہمارے بندوں ، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو۔ بڑی قوّتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 38:45 سے 38:48 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔

خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔