سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: نوح آیہ 12

71:12
ويمددكم باموال وبنين ويجعل لكم جنات ويجعل لكم انهارا ١٢
وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍۢ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّـٰتٍۢ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَـٰرًۭا ١٢
وَّیُمْدِدْكُمْ
بِاَمْوَالٍ
وَّبَنِیْنَ
وَیَجْعَلْ
لَّكُمْ
جَنّٰتٍ
وَّیَجْعَلْ
لَّكُمْ
اَنْهٰرًا
۟ؕ
اور وہ بڑھا دے گا تمہیں مال اور بیٹوں سے اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے (چشمے اور) نہریں رواں کر دے گا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 71:11 سے 71:12 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 1 1{ یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ } ”وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن کر رہو گے تو وہ تمہاری دنیوی زندگی میں بھی تمہارے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا اور تمہارے علاقے میں خوب بارشیں برسائے گا ‘ جس سے تمہارے رزق میں اضافہ ہوگا۔ ان الفاظ سے یوں لگتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کے بعد کسی دور میں اس قوم پر خشک سالی اور قحط کا عذاب آیا تھا۔ جیسے قوم فرعون پر قحط اور دوسرے عذاب بھیجے گئے تھے الاعراف : رکوع 16۔ یا جیسے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بہت سخت قحط پڑا تھا سورۃ الدخان : رکوع 1۔ ایسے چھوٹے چھوٹے عذاب دراصل ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم کے لوگوں پر وقتاً فوقتاً اس لیے مسلط کیے جاتے تھے تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگ جائیں اور اپنے رسول کی دعوت کو سنجیدگی سے سنیں۔