سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
47:31
ولنبلونكم حتى نعلم المجاهدين منكم والصابرين ونبلو اخباركم ٣١
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ ٱلْمُجَـٰهِدِينَ مِنكُمْ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَنَبْلُوَا۟ أَخْبَارَكُمْ ٣١
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ
حَتّٰی
نَعْلَمَ
الْمُجٰهِدِیْنَ
مِنْكُمْ
وَالصّٰبِرِیْنَ ۙ
وَنَبْلُوَاۡ
اَخْبَارَكُمْ
۟
اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 47:31 سے 47:32 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آدمی جب ایمان کو لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس پر مختلف حالات پیش آتے ہیں۔ یہ حالات اس کے ایمان کا امتحان ہوتے ہیں۔ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ قربانی کی قیمت پر اپنے مومن ہونے کا ثبوت دے۔ وہ اپنے نفس کو کچلے۔ وہ اپنے مادی مفادات کو نظر انداز کرے۔ وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو برداشت کرے۔ حتیٰ کہ جان و مال کو کھپا کر اپنے ایمان پر قائم رہے۔

مومن کو اس قسم کے حالات میں ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر مومنین کو کھلی آزادی حاصل ہو تاکہ وہ اہل ایمان کے خلاف ہر قسم کی کارروائیاں کرسکیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعہ ایک طرف مخالفین کا جرم ثابت شدہ بنتا ہے۔ دوسری طرف ان شدید حالات میں اہل ایمان ثابت قدم رہ کر دکھا دیتے ہیں کہ وہ واقعی مومن ہیں اور اس قابل ہیں کہ خدا کی معیاری دنیا میں بسانے کے لیے ان کا انتخاب کیا جائے۔