سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن محمد کی تفسیر، آیت 12

47:12
ان الله يدخل الذين امنوا وعملوا الصالحات جنات تجري من تحتها الانهار والذين كفروا يتمتعون وياكلون كما تاكل الانعام والنار مثوى لهم ١٢
إِنَّ ٱللَّهَ يُدْخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ ٱلْأَنْعَـٰمُ وَٱلنَّارُ مَثْوًۭى لَّهُمْ ١٢
اِنَّ
اللّٰهَ
یُدْخِلُ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ؕ
وَالَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
یَتَمَتَّعُوْنَ
وَیَاْكُلُوْنَ
كَمَا
تَاْكُلُ
الْاَنْعَامُ
وَالنَّارُ
مَثْوًی
لَّهُمْ
۟
ایما ن لانے والوں  اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ  رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں،1 اور ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 47:7 سے 47:13 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

عرب میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا ان کو آپ نے یہ پیشگی خبر دی کہ تم جو کھاپی رہے ہو تو یہ مت سمجھو کہ تم آزاد ہو تم پوری طرح خدا کی گرفت میں ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر تم اپنے انکار پر قائم رہے تو خدا کے قانون کے مطابق تم تباہ کردیے جاؤگے۔

یہ واقعہ عین پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ توحید کے علم بردار غالب آئے اور جو لوگ شرک کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ ہمیشہ کے لیے نابود ہوگئے۔