سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: لقمان آیہ 7

31:7
واذا تتلى عليه اياتنا ولى مستكبرا كان لم يسمعها كان في اذنيه وقرا فبشره بعذاب اليم ٧
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًۭا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرًۭا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٧
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِ
اٰیٰتُنَا
وَلّٰی
مُسْتَكْبِرًا
كَاَنْ
لَّمْ
یَسْمَعْهَا
كَاَنَّ
فِیْۤ
اُذُنَیْهِ
وَقْرًا ۚ
فَبَشِّرْهُ
بِعَذَابٍ
اَلِیْمٍ
۟
جب اسے سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو وہ پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے استکبار کرتے ہوئے جیسے کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں بوجھ ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ اس شخص کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 31:7 سے 31:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج ”گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے سنایا ہے اس نے وہ سنا ہی نہیں۔فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ”تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔