سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: هود آیہ 121

11:121
وقل للذين لا يومنون اعملوا على مكانتكم انا عاملون ١٢١
وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَـٰمِلُونَ ١٢١
وَقُلْ
لِّلَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
اعْمَلُوْا
عَلٰی
مَكَانَتِكُمْ ؕ
اِنَّا
عٰمِلُوْنَ
۟ۙ
اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے کہ تم اپنی جگہ پر کرو (جو کرسکتے ہو) ہم بھی کر رہے ہیں (جو کچھ ہم کرسکتے ہیں)
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 11:120 سے 11:123 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔

مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔

ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔