سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن غافر کی تفسیر، آیت 9

40:9
وقهم السييات ومن تق السييات يوميذ فقد رحمته وذالك هو الفوز العظيم ٩
وَقِهِمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوْمَئِذٍۢ فَقَدْ رَحِمْتَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ٩
وَقِهِمُ
السَّیِّاٰتِ ؕ
وَمَنْ
تَقِ
السَّیِّاٰتِ
یَوْمَىِٕذٍ
فَقَدْ
رَحِمْتَهٗ ؕ
وَذٰلِكَ
هُوَ
الْفَوْزُ
الْعَظِیْمُ
۟۠
اور بچا دے اُن کو برائیوں سے 1۔ جس کو تُو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے 2 بچا دیا اُس پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے۔“
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 40:7 سے 40:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

جو اللہ کے بندے بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ان کو ہمیشہ ستایا جاتا ہے۔ ان کو ماحول میں حقیر بنادیا جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ ظاہر پرست انسانوں کے درمیان ان کا یہ حال ہوتا ہے، عین اسی وقت زمین و آسمان ان کے برسرِ حق ہونے کی تصدیق کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتے ان کے حسنِ انجام کے منتظر ہوتے ہیں۔ وقتی دنیا میں ناقابلِ تذکرہ سمجھے جانے والے لوگ ابدی دنیا میں اس مقام عزت پر ہوتے ہیں کہ اللہ کے مقرب ترین فرشتے بھی ان کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔