سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: غافر آیہ 29

40:29
يا قوم لكم الملك اليوم ظاهرين في الارض فمن ينصرنا من باس الله ان جاءنا قال فرعون ما اريكم الا ما ارى وما اهديكم الا سبيل الرشاد ٢٩
يَـٰقَوْمِ لَكُمُ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ظَـٰهِرِينَ فِى ٱلْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأْسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ أُرِيكُمْ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ ٢٩
یٰقَوْمِ
لَكُمُ
الْمُلْكُ
الْیَوْمَ
ظٰهِرِیْنَ
فِی
الْاَرْضِ ؗ
فَمَنْ
یَّنْصُرُنَا
مِنْ
بَاْسِ
اللّٰهِ
اِنْ
جَآءَنَا ؕ
قَالَ
فِرْعَوْنُ
مَاۤ
اُرِیْكُمْ
اِلَّا
مَاۤ
اَرٰی
وَمَاۤ
اَهْدِیْكُمْ
اِلَّا
سَبِیْلَ
الرَّشَادِ
۟
اے میری قوم کے لوگو ! آج تو تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور تم ہر طرح سے زمین میں غالب ہو۔ لیکن اگر کہیں ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس سے بچانے کے لیے ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا : میں تو تمہیں وہی کچھ دکھا رہا ہوں جو مجھے نظر آ رہا ہے اور میں نہیں راہنمائی کر رہا تمہاری مگر کامیابی کے راستے کی طرف۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 40:28 سے 40:29 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہاں جس رجل مومن کا ذکر ہے وہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا اورغالباً وہ دربار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے تھا۔ یہ بزرگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئے۔ تاہم وہ ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جب انھوںنے دیکھا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کررہا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ کی حمایت پر آگئے۔ انھوںنے نہایت مؤثر اور نہایت حکیمانہ انداز میں حضرت موسیٰ کی مدافعت فرمائی۔

اس واقعہ میں ایک نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ ایک ایسی طاقت ہے کہ خود دشمن کی صفوں میں اپنے ہمدرد اور ساتھی پیدا کرلیتی ہے، خواہ وہ دشمن خاندان فرعون جیسا ظالم اور متکبر کیوں نہ ہو۔