سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر فاطر کی تفسیر، آیت 2

35:2
ما يفتح الله للناس من رحمة فلا ممسك لها وما يمسك فلا مرسل له من بعده وهو العزيز الحكيم ٢
مَّا يَفْتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍۢ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٢
مَا
یَفْتَحِ
اللّٰهُ
لِلنَّاسِ
مِنْ
رَّحْمَةٍ
فَلَا
مُمْسِكَ
لَهَا ۚ
وَمَا
یُمْسِكْ ۙ
فَلَا
مُرْسِلَ
لَهٗ
مِنْ
بَعْدِهٖ ؕ
وَهُوَ
الْعَزِیْزُ
الْحَكِیْمُ
۟
اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں۔ 1 وہ زبردست اور حکیم ہے۔ 2
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کا چاہا ہوا سب کچھ ہو کر رہتا ہے بغیر اس کی چاہت کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جسے وہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ نماز فرض کے سلام کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ کلمات پڑھتے، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضول گوئی اور کثرت سوال اور مال کی بربادی سے منع فرماتے تھے اور آپ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور ماؤں کی نافرنیاں کرنے اور خود لینے اور دوسروں کو نہ دینے سے بھی روکتے تھے۔ [صحیح بخاری:6473] ‏

صفحہ نمبر7240

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده»، کہہ کر یہ فرماتے «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ. وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ. أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ. أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ. وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ. اللَّهُمَّ! لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ‏ [صحیح مسلم:477] ‏ اسی آیت جیسی آیت «‏وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا هُوَ ۭ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ہے۔ [6-الأنعام:17] ‏ اور بھی اس کی نظیر کی آیتیں بہت سی ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بارش برستی تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہم پر فتح کے تارے سے بارش برسائی گئی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر7241