سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الزمر 39:11

39:11
قل اني امرت ان اعبد الله مخلصا له الدين ١١
قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ مُخْلِصًۭا لَّهُ ٱلدِّينَ ١١
قُلْ
اِنِّیْۤ
اُمِرْتُ
اَنْ
اَعْبُدَ
اللّٰهَ
مُخْلِصًا
لَّهُ
الدِّیْنَ
۟ۙ
(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 39:10 سے 39:12 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ” جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے “۔

معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔

صفحہ نمبر7793