سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر الزخرف کی تفسیر، آیت 9

43:9
ولين سالتهم من خلق السماوات والارض ليقولن خلقهن العزيز العليم ٩
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيمُ ٩
وَلَىِٕنْ
سَاَلْتَهُمْ
مَّنْ
خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
لَیَقُوْلُنَّ
خَلَقَهُنَّ
الْعَزِیْزُ
الْعَلِیْمُ
۟ۙ
اگر تم اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 43:9 سے 43:10 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اصلی زاد راہ تقویٰ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہری ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ “

” حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو۔ “

صفحہ نمبر8206