سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الزخرف کی تفسیر، آیت 5

43:5
افنضرب عنكم الذكر صفحا ان كنتم قوما مسرفين ٥
أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ ٱلذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًۭا مُّسْرِفِينَ ٥
اَفَنَضْرِبُ
عَنْكُمُ
الذِّكْرَ
صَفْحًا
اَنْ
كُنْتُمْ
قَوْمًا
مُّسْرِفِیْنَ
۟
کیا ہم اس ذکر کا رخ تمہاری طرف سے اس لیے پھیر دیں کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 43:5 سے 43:8 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آج دنيا ميں بے شمار ايسے لوگ پائے جاتے هیں جو پچھلے پيغمبروں كا نام عزت كے ساتھ ليتے هيں۔ ايسي حالت ميں يه بات بڑي عجيب معلوم هوتي هے كه ان پيغمبروں كا (بشمول پيغمبر اسلام) ان كے هم زمانه لوگوں نے مذاق كيوں اڑايا۔

اس كي وجه يه نهيں هے كه پچھلے لوگ وحشي تھے اور آج كے لوگ مهذب هيں۔ يه صرف زمانه كا فرق هے۔ آج لمبي مدت گزرنے كے بعد هر پيغمبر كے ساتھ تاريخي عظمت كا زور شامل هوچكا هے۔ اس ليے آج هر ظاهربیں پيغمبر كو پهچان ليتاهے۔ مگر پيغمبر اپنے زمانه كے لوگوں كو صرف ايك عام انسان نظر آتا تھا۔ اس وقت پيغمبر كي پيغمبرانه حيثيت كو پهچاننے كے لیے حقيقت بيں نگاه دركار تھي۔ اور بلا شبه حقيقت بيں نگاه دنيا ميں هميشه سب سے كم پائي گئي هے۔

دعوت حق كے مخاطبين خواه كتنا هي زياده غلط رويه اختيار كريں، داعي يك طرفه طورپر صبر كرتے هوئے اپنے دعوتي عمل كو جاري ركھتا هے۔ تاآنكه وه وقت آجائے جب كه خدا اپني طرف سے كوئي فيصله فرمادے۔