سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الطور کی تفسیر، آیت 39

52:39
ام له البنات ولكم البنون ٣٩
أَمْ لَهُ ٱلْبَنَـٰتُ وَلَكُمُ ٱلْبَنُونَ ٣٩
اَمْ
لَهُ
الْبَنٰتُ
وَلَكُمُ
الْبَنُوْنَ
۟ؕ
کیا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 52:35 سے 52:39 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔