سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: الطور آیہ 21

52:21
والذين امنوا واتبعتهم ذريتهم بايمان الحقنا بهم ذريتهم وما التناهم من عملهم من شيء كل امري بما كسب رهين ٢١
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـٰنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَـٰهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍۢ ۚ كُلُّ ٱمْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌۭ ٢١
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَاتَّبَعَتْهُمْ
ذُرِّیَّتُهُمْ
بِاِیْمَانٍ
اَلْحَقْنَا
بِهِمْ
ذُرِّیَّتَهُمْ
وَمَاۤ
اَلَتْنٰهُمْ
مِّنْ
عَمَلِهِمْ
مِّنْ
شَیْءٍ ؕ
كُلُّ
امْرِىۢ
بِمَا
كَسَبَ
رَهِیْنٌ
۟
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔ ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہوگا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 52:21 سے 52:28 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔

جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔