سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر التغابن کی تفسیر، آیت 5

64:5
الم ياتكم نبا الذين كفروا من قبل فذاقوا وبال امرهم ولهم عذاب اليم ٥
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ فَذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٥
اَلَمْ
یَاْتِكُمْ
نَبَؤُا
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
قَبْلُ ؗ
فَذَاقُوْا
وَبَالَ
اَمْرِهِمْ
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
کیا تمہیں  اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اِس سے پہلے کُفر کیا اور پھر اپنی شامتِ اعمال کا مزہ چکھ لیا؟ اور آگے اُن کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 64:5 سے 64:6 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭

یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے “۔

اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔

صفحہ نمبر9541