سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشورى 42:52

42:52
وكذالك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تدري ما الكتاب ولا الايمان ولاكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وانك لتهدي الى صراط مستقيم ٥٢
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحًۭا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِى مَا ٱلْكِتَـٰبُ وَلَا ٱلْإِيمَـٰنُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَـٰهُ نُورًۭا نَّهْدِى بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٥٢
وَكَذٰلِكَ
اَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْكَ
رُوْحًا
مِّنْ
اَمْرِنَا ؕ
مَا
كُنْتَ
تَدْرِیْ
مَا
الْكِتٰبُ
وَلَا
الْاِیْمَانُ
وَلٰكِنْ
جَعَلْنٰهُ
نُوْرًا
نَّهْدِیْ
بِهٖ
مَنْ
نَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِنَا ؕ
وَاِنَّكَ
لَتَهْدِیْۤ
اِلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟ۙ
اور (اے نبی ﷺ !) اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے (اے نبی ﷺ !) آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اور آپ ﷺ یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 42:51 سے 42:53 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

موجوده دنيا ميں كوئي انسان براهِ راست خدا سے هم كلام نهيں هوسكتا۔ انسان كا عجز اس قسم كے كلام ميں مانع هے۔ چنانچه پيغمبروں پر خدا كا جو كلام اترا وه بالواسطه انداز ميں اترا۔ بالواسطه خطاب كے كئي طريقے هيں ان كي مثاليں مختلف پيغمبروں كي زندگي ميں پائي جاتي هيں۔

ايك عالم جب كوئي كتاب لكھتاهے يا ايك مفكر جب كوئي كلام پيش كرتاهے تو اس كے ماضي ميں ايسے اسباب موجود هوتے هيں جو اس كے علمي اور فكري كارنامه كي توجيهه كرسكيں۔ مگر پيغمبر كا معامله اس سے بالكل مختلف هے۔ پيغمبر كي نبوت كے بعد كي زندگي اس كي نبوت سے پهلے كي زندگی سے سراسر مختلف هوتي هے۔ غير پيغمبر كا حال كا كلام اس كي ماضي كي زندگي كا تسلسل نظر آتا هے۔ مگر پيغمبر كي زبان سے بعد از نبوت جو كلام جاري هوتا هے وه اس كے قبل از نبوت كلام سے اتنا زياده ممتاز هوتا هے كه پيغمبر كے ماضي سے اس كي توجيهه نهيں كي جاسكتي۔ يه ايك واضح قرينه هے جو يه ثابت كرتاهے كه پيغمبر كا كلام خدائي كلام هے، نه كه عام انسانی كلام۔

پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كو يه خصوصيت حاصل ہے كه آپ كا دياهوا قرآن اور آپ كي اپني زبان سے نكلا هوا كلام، دونوںآج بھي اپني اصل حالت ميں موجود هيں۔ كوئي شخص جو عربي زبان جانتا هو اور وه ان دونوں كو تقابلي طورپر ديكھے تو وه دونوں كے درميان كھلا هوا فرق پائے گا۔ حديث كي زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله كي زبان هے اور قرآن كي زبان واضح طورپر خدا كي زبان۔