سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الشورى کی تفسیر، آیت 47

42:47
استجيبوا لربكم من قبل ان ياتي يوم لا مرد له من الله ما لكم من ملجا يوميذ وما لكم من نكير ٤٧
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍۢ يَوْمَئِذٍۢ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍۢ ٤٧
اِسْتَجِیْبُوْا
لِرَبِّكُمْ
مِّنْ
قَبْلِ
اَنْ
یَّاْتِیَ
یَوْمٌ
لَّا
مَرَدَّ
لَهٗ
مِنَ
اللّٰهِ ؕ
مَا
لَكُمْ
مِّنْ
مَّلْجَاٍ
یَّوْمَىِٕذٍ
وَّمَا
لَكُمْ
مِّنْ
نَّكِیْرٍ
۟
مان لو اپنے ربّ کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ 1 اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا۔ 2
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 42:47 سے 42:48 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

موجوده دنيا ميں آدمي كا اصل امتحان يه هے كه جو صورت حال بھي اس كے سامنے آئے، وه اس ميں صحيح ردعمل پيش كرے۔ مگر انسان ايسا نهيں كرتا۔ اس كو جب كوئي كاميابي ملتي هے تو وه فخر وناز كي نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ اورجب وه كسي مصيبت ميں پڑتا هے تو وه منفي جذبات كا اظهار كرنے لگتا هے۔

يهي وه لوگ هيں جو دعوت حق كے مقابله ميں صحيح رد عمل پيش نهيں كرپاتے۔ ان كا غير حقيقت پسندانه مزاج يهاں بھي ان كو غير حقيقت پسند بناديتاهے۔ دعوت حق كا صحيح رد عمل يه هے كه آدمي فوراً اس كي حقانيت كا اعتراف كرلے۔ مگر آدمي يه كرتاهے كه وه اس كو اپني ساكھ كا مسئله بنا ليتا هے۔ وه سمجھتا هے كه دعوت كو مان كر ميں اس كو پيش كرنے والے كے سامنے چھوٹا هوجاؤں گا۔ يه احساس اس كے ليے حق كو قبول كرنے كي راه ميں ركاوٹ بن جاتا هے۔ وه اس كي صداقت پر يقين كرنے كے باوجود اپني ذاتي مصلحتوں كي بنا پر اس كو نظر انداز كرديتا هے۔