سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

Tazkirul Quran تفسیر: الشورى آیہ 45

42:45
وتراهم يعرضون عليها خاشعين من الذل ينظرون من طرف خفي وقال الذين امنوا ان الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة الا ان الظالمين في عذاب مقيم ٤٥
وَتَرَىٰهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَـٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِىٍّۢ ۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ فِى عَذَابٍۢ مُّقِيمٍۢ ٤٥
وَتَرٰىهُمْ
یُعْرَضُوْنَ
عَلَیْهَا
خٰشِعِیْنَ
مِنَ
الذُّلِّ
یَنْظُرُوْنَ
مِنْ
طَرْفٍ
خَفِیٍّ ؕ
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اِنَّ
الْخٰسِرِیْنَ
الَّذِیْنَ
خَسِرُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
وَاَهْلِیْهِمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّ
الظّٰلِمِیْنَ
فِیْ
عَذَابٍ
مُّقِیْمٍ
۟
اور تم دیکھو گے انہیں کہ وہ پیش کیے جائیں گے اس (جہنم) پر نگاہیں زمین میں گاڑے ہوں گے ذلت کی وجہ سے دیکھ رہے ہوں گے کن انکھیوں سے۔ اور (اُس وقت) اہل ایمان کہیں گے کہ واقعتا تباہ و برباد ہونے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں مبتلا کیا۔ } آگاہ ہو جائو ! یہ ظالم تو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں رہیں گے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 42:44 سے 42:46 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

In this world, guidance is revealed through logic, this being the law of God for this world. This means that in this world only that person will benefit from guidance who proves himself capable of understanding matters by a process of reasoning. The establishing of a fact by this method is enough to make him bow down before it. Those who do not accept facts in this way, can never receive guidance in this world. One who does not yield to reason in this world, runs the risk of being laid low by God’s power in the Hereafter. But bowing down on the Day of Judgement is of no avail to anybody, because then it will serve only to humble a man and not make him entitled to a reward.