سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الصف کی تفسیر، آیت 12

61:12
يغفر لكم ذنوبكم ويدخلكم جنات تجري من تحتها الانهار ومساكن طيبة في جنات عدن ذالك الفوز العظيم ١٢
يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ وَمَسَـٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّـٰتِ عَدْنٍۢ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١٢
یَغْفِرْ
لَكُمْ
ذُنُوْبَكُمْ
وَیُدْخِلْكُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ
وَمَسٰكِنَ
طَیِّبَةً
فِیْ
جَنّٰتِ
عَدْنٍ ؕ
ذٰلِكَ
الْفَوْزُ
الْعَظِیْمُ
۟ۙ
اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں  داخل کرےگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنّتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 61:10 سے 61:13 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔