سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: الروم آیہ 55

30:55
ويوم تقوم الساعة يقسم المجرمون ما لبثوا غير ساعة كذالك كانوا يوفكون ٥٥
وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقْسِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَيْرَ سَاعَةٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا۟ يُؤْفَكُونَ ٥٥
وَیَوْمَ
تَقُوْمُ
السَّاعَةُ
یُقْسِمُ
الْمُجْرِمُوْنَ ۙ۬
مَا
لَبِثُوْا
غَیْرَ
سَاعَةٍ ؕ
كَذٰلِكَ
كَانُوْا
یُؤْفَكُوْنَ
۟
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرمین قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے اسی طرح وہ (دُنیا میں بھی) الٹے پھرائے جاتے رہے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 30:54 سے 30:57 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔

دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔