سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الروم کی تفسیر، آیت 54

30:54
۞ الله الذي خلقكم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوة ثم جعل من بعد قوة ضعفا وشيبة يخلق ما يشاء وهو العليم القدير ٥٤
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍۢ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍۢ قُوَّةًۭ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍۢ ضَعْفًۭا وَشَيْبَةًۭ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ ٥٤
اَللّٰهُ
الَّذِیْ
خَلَقَكُمْ
مِّنْ
ضُؔعْفٍ
ثُمَّ
جَعَلَ
مِنْ
بَعْدِ
ضُؔعْفٍ
قُوَّةً
ثُمَّ
جَعَلَ
مِنْ
بَعْدِ
قُوَّةٍ
ضُؔعْفًا
وَّشَیْبَةً ؕ
یَخْلُقُ
مَا
یَشَآءُ ۚ
وَهُوَ
الْعَلِیْمُ
الْقَدِیْرُ
۟
اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوّت بخشی، پھر اس قوّت کے بعد تمہیں ضعیف اور بُوڑھا کر دیا۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔1 وہ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 30:54 سے 30:57 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔

دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔