سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
30:52
فانك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرين ٥٢
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٥٢
فَاِنَّكَ
لَا
تُسْمِعُ
الْمَوْتٰى
وَلَا
تُسْمِعُ
الصُّمَّ
الدُّعَآءَ
اِذَا
وَلَّوْا
مُدْبِرِیْنَ
۟
تو (اے نبی ﷺ !) آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں (خاص طور پر) جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 52 فَاِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”اگر کوئی بہراشخص آپ کے سامنے ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اسے اشاروں کنایوں سے کسی حد تک اپنی بات سمجھا لیں گے لیکن اگر وہ آپ سے منہ پھیر کر دوسری سمت چلا جا رہا ہو تو آپ کسی طور پر بھی اسے اپنا مدعا نہیں سمجھا سکتے۔ تو اے نبی ﷺ ! ایک تو یہ لوگ سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور مزید یہ کہ وہ آپ کی بات سننا چاہتے بھی نہیں۔ چناچہ ان تک آپ ﷺ کی دعوت کے ابلاغ کا کوئی امکان نہیں۔