سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الرعد 13:35

13:35
۞ مثل الجنة التي وعد المتقون تجري من تحتها الانهار اكلها دايم وظلها تلك عقبى الذين اتقوا وعقبى الكافرين النار ٣٥
۞ مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ أُكُلُهَا دَآئِمٌۭ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ ۖ وَّعُقْبَى ٱلْكَـٰفِرِينَ ٱلنَّارُ ٣٥
مَثَلُ
الْجَنَّةِ
الَّتِیْ
وُعِدَ
الْمُتَّقُوْنَ ؕ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ؕ
اُكُلُهَا
دَآىِٕمٌ
وَّظِلُّهَا ؕ
تِلْكَ
عُقْبَی
الَّذِیْنَ
اتَّقَوْا ۖۗ
وَّعُقْبَی
الْكٰفِرِیْنَ
النَّارُ
۟
مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے اس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اس کے پھل بھی ہمیشہ قائم رہنے والے ہوں گے اور اس کے سائے بھی یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی اور کافروں کا انجام تو آگ ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 13:33 سے 13:37 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

In the verse: أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ (Is then He, who is watchful over everyone ... 33), the ignorance and irrationality of the disbelievers has been exposed by saying that these people are certainly short on sense when they equate inert idols with His pure Being, a Being that watches everyone and is the ultimate reckoner of everyone's deeds. Then, it was said that the real reason behind their unreasonable attitude is that shaitan has made their very ignorance look good in their sight and, therefore, this they take to be 'achievement' and 'success.'