سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: الرعد آیہ 27

13:27
ويقول الذين كفروا لولا انزل عليه اية من ربه قل ان الله يضل من يشاء ويهدي اليه من اناب ٢٧
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ ٢٧
وَیَقُوْلُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لَوْلَاۤ
اُنْزِلَ
عَلَیْهِ
اٰیَةٌ
مِّنْ
رَّبِّهٖ ؕ
قُلْ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُضِلُّ
مَنْ
یَّشَآءُ
وَیَهْدِیْۤ
اِلَیْهِ
مَنْ
اَنَابَ
۟ۖۚ
اور کہتے ہیں یہ کافر لوگ کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے آپ کہہ دیجیے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی طرف ہدایت اسی کو دیتا ہے جو خود (اس کی طرف) رجوع کرے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 13:27 سے 13:29 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔

یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔

اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔