سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن الرعد کی تفسیر، آیت 26

13:26
الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر وفرحوا بالحياة الدنيا وما الحياة الدنيا في الاخرة الا متاع ٢٦
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا مَتَـٰعٌۭ ٢٦
اَللّٰهُ
یَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
وَیَقْدِرُ ؕ
وَفَرِحُوْا
بِالْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ؕ
وَمَا
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَا
فِی
الْاٰخِرَةِ
اِلَّا
مَتَاعٌ
۟۠
اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے اور یہ لوگ مگن ہیں دنیا کی زندگی پر حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے تھوڑے سے فائدے کے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌجو لوگ اخروی زندگی کے انعامات کے امیدوار نہیں ہیں ان کی جہد و کوشش کی جولان گاہ یہی دنیوی زندگی ہے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اسی زندگی کی آسائشوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں اور وہ اس کی زیب وزینت پر فریفتہ اور اس میں پوری طرح مگن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے اس طرز عمل پر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل و حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔