سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن تفسیر: النمل آیہ 82

27:82
۞ واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا باياتنا لا يوقنون ٨٢
۞ وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةًۭ مِّنَ ٱلْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ ٨٢
وَاِذَا
وَقَعَ
الْقَوْلُ
عَلَیْهِمْ
اَخْرَجْنَا
لَهُمْ
دَآبَّةً
مِّنَ
الْاَرْضِ
تُكَلِّمُهُمْ ۙ
اَنَّ
النَّاسَ
كَانُوْا
بِاٰیٰتِنَا
لَا
یُوْقِنُوْنَ
۟۠
اور جب ان پر ہماری بات واقع ہوجائے گی تو ہم نکالیں گے ان کے لیے زمین سے ایک جانور جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ ””دابّۃ الارض“ کا ظہور قیامت کی آخری علامات میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد کوہ صفا پھٹے گا اور اس میں سے یہ جانور برآمد ہوگا۔ واللہ اعلم !