سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

فی ظلال القرآن النمل کی تفسیر، آیت 71

27:71
ويقولون متى هاذا الوعد ان كنتم صادقين ٧١
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٧١
وَیَقُوْلُوْنَ
مَتٰی
هٰذَا
الْوَعْدُ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
وہ کہتے ہیں کہ ”یہ دھمکی کب پُوری ہوگی اگر تم سچے ہو؟“1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

ویقولون متی ۔۔۔۔۔ صدقین (27: 71) ۔ یہ وہ تب کہتے تھے جب کبھی ان کو امم سابقہ کی طرح کے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، جن کی بستیوں پر سے وہ رات دن گزرتے تھے مثلاً حضرت لوط کی قوم کی بستی سدوم ، اور حجر میں ثمود کے آثار اور احقاف کے علاقے میں قوم عاد کے آثار اور قوم سبا کے کھنڈرات جو سیل العرم کے بعد تباہ ہوئے۔ تو یہ لوگ کہتے تھے کہ جن باتوں سے ہمیں ڈراتے ہو ، متعین طور پر بتاؤ وہ عذاب کب آئے گا۔ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ کیسا عذاب ہوگا اور کب ہوگا۔ یہاں پھر اس کا جواب بھی ویسے ہی حقارت آمیز انداز میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ دے دیا جاتا ہے۔